Monday, 9 March 2026

Neela Chakwal

نیلہ سوئی گیس کہانی: اعلان 2019، کیلنڈر 2026، گیس ابھی تک خواب
2019 میں بڑے فخر سے اعلان ہوا کہ نیلہ تا مینگن فنڈز جاری، گیس بس آنے ہی والی ہے۔ مٹھائیاں تقسیم، فیس بک پوسٹس، تصویریں، مبارکبادیں۔ پھر حقیقت نے آ کر آہستہ سے کان میں کہا: “فنڈ کہاں ہیں؟”
2020 میں معروف قانون دان چوہدری غلام جیلانی منہاس ایڈووکیٹ نے معاملہ سیدھا لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں پہنچا دیا۔ کیس چلا، تاریخیں لگیں، اور آخرکار معزز جج جسٹس جواد حسن نے حکم دیا کہ سیکرٹری پٹرولیم چار ہفتوں میں اقدامات کریں۔ عدالت میں کسی نے بھی یہ تصدیق نہ کی کہ فنڈ واقعی جاری ہوئے تھے۔ یعنی اعلان تھا، مگر کاغذ خاموش۔
اب کیلنڈر پلٹتے پلٹتے 2026 آ گیا۔ سات سال۔ پورے سات سال۔
نہ گیس آئی، نہ کام مکمل ہوا۔ ہاں، پائپوں کی چند لکیریں ضرور زمین پر دکھائی دیتی ہیں۔ اور جب بھی دو پائپ کسی ٹرک سے اترتے ہیں، فوراً ایک عظیم الشان فوٹو سیشن۔ پارٹی کوئی بھی ہو، کیمرہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ تصویر کھنچوا لو، کیپشن لگا دو: “تاریخی اقدام”۔
تاریخی اقدام اگر یہی ہے تو پھر تاریخ بہت رو رہی ہوگی۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ آج بھی مختلف سیاسی جماعتیں اس منصوبے کو اپنی جھولی میں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بھائی، اگر کھینچنا ہی ہے تو مکمل بھی کروا دو۔ عوام کو آگ جلانے کے لیے لکڑیاں نہیں، گیس چاہیے۔ بلوں کا حال الگ، سہولت صفر۔
سوال سیدھا ہے:
اگر یہ کام واقعی عوامی خدمت تھا تو سات سال میں مکمل کیوں نہ ہوا؟
اور اگر نہیں ہو سکتا تو پھر بار بار اعلان، فوٹو سیشن اور کریڈٹ لینے کی کوشش کیوں؟
ایسا لگتا ہے جیسے گیس نہیں، صرف بیانات کی سپلائی لائن مضبوط ہے۔
نیلہ کے لوگ اب تصویروں سے نہیں، نتیجے سے متاثر ہوں گے۔ جو بھی پارٹی ہو، جو بھی نمائندہ ہو، کام مکمل کروا دے۔ ورنہ تاریخ میں نام خدمت سے نہیں، شو بازی سے لکھا جائے گا۔
اور سچ یہ ہے کہ اگر عدالت کے دباؤ کے بغیر کوئی فائل ہلتی نہیں، تو پھر عوام خود سمجھدار ہیں کہ اصل کام کون کر رہا ہے اور کون صرف ربن کاٹنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

No comments: