تقریباً پانچ سال ہونے کو ہیں، مگر نیلا میں سوئی گیس کے نام پر آج بھی صرف دعوے، فوٹو سیشنز اور ویڈیوز ہی نظر آتی ہیں۔ کبھی ایک نمائندہ آتا ہے، کبھی دوسرا، کبھی تیسرا، مگر عملی طور پر نہ تو گیس کی پائپ لائن مکمل طور پر بچھ سکی ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ ذکر ترقیاتی کام ہو سکا ہے۔
گاؤں کی گلیاں آج بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، لوگ آج بھی بنیادی سہولت کے انتظار میں ہیں، مگر افسوس کہ ہر دورہ صرف تصاویر اور بیانات تک محدود رہتا ہے۔ عوام کو وعدوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے فرق پڑتا ہے۔
نیلا جیسے بڑے اور اہم گاؤں کو اب بھی مکمل گیس فراہمی سے محروم رکھنا ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ آخر کب تک یہاں صرف وزٹ، ویڈیوز اور یقین دہانیاں ہی ملتی رہیں گی؟
Ubaid neela
No comments:
Post a Comment