Tuesday, 14 July 2026

Dullah چکوال

دلہہ (ضلع چکوال) – تاریخ، ثقافت اور سیاسی ورثہ

باب اول

جغرافیائی و تاریخی تعارف

دلہہ، ضلع چکوال کی ایک قدیم، تاریخی اور اہم بستی ہے جو تاریخی قصبہ نیلہ کے قریب واقع ہے۔ یہ گاؤں خطۂ دھن (دہنی علاقہ) کا حصہ ہے، جس کی اپنی الگ زبان، ثقافت، روایات اور سماجی شناخت ہے۔ دلہہ اور نیلہ صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، اسی لیے یہ علاقہ عموماً "نیلہ-دلہہ" کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے دلہہ کا شمار دھن کی قدیم آبادیوں میں ہوتا ہے۔ اگرچہ اس گاؤں کی ابتدائی بنیاد کے متعلق مستند تحریری ریکارڈ محدود ہے، لیکن مقامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ علاقہ صدیوں سے زرعی اور قبائلی مرکز رہا ہے۔
اٹھارہویں صدی میں سردار عبداللہ خان کرلال کی آمد کا ذکر مقامی روایات میں ملتا ہے۔ تاہم انہیں دلہہ گاؤں کا بانی قرار دینے کے لیے کوئی مضبوط تحریری ثبوت موجود نہیں۔ البتہ ان کی آمد کے بعد علاقے کے سماجی اور قبائلی ڈھانچے میں تبدیلیوں کا ذکر مقامی روایات میں محفوظ ہے۔
دلہہ کی تاریخ صرف اس کی قدامت تک محدود نہیں بلکہ یہ گاؤں اپنی سیاسی، سماجی اور عسکری روایات کی وجہ سے بھی ضلع چکوال میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔

باب دوم

برادریاں، سماجی ڈھانچہ اور دہنی ثقافت

دلہہ مختلف برادریوں اور قبائل کا مسکن ہے۔ 
گاؤں کی اہم برادریاں
مغل کسر (ذیلی شاخوں اور القابات سمیت، جیسے سردار، چوہدری، ملک وغیرہ)
کہوٹ
گوندل
اعوان
لدھیال
راجے
اچھرال
ککے 
کوٹ
نوابیئے
موچی
جولاہے
دھبے
قاضی
میال
سریال
گھگھ
کمہار
لوہار
مستری
ترکھان
پیشہ وارانہ و سماجی ساخت
گاؤں کی آبادی کا بڑا حصہ زمینداری اور کاشتکاری سے وابستہ ہے، جبکہ بعض خاندان روایتی پیشوں مثلاً لوہاری، ترکھانی، مستری گری، کمہاری، جولاہی اور دیگر دستکاریوں سے بھی منسلک رہے ہیں۔ ان برادریوں نے مل کر گاؤں کی سماجی، معاشی اور ثقافتی شناخت کو تشکیل دیا ہے۔
ثقافتی اعتبار سے دلہہ مکمل طور پر دہنی تہذیب کا نمائندہ گاؤں ہے۔ یہاں کی:

دہنی زبان اور لہجہ؛

شادی بیاہ کی روایات؛

لوک گیت، ٹپے اور مقامی رسمیں؛

مہمان نوازی اور برادری نظام؛

زرعی طرزِ زندگی اور پنچائتی روایت؛

خطۂ دھن کی منفرد تہذیبی شناخت کی عکاسی کرتے ہیں۔

باب سوم

دلہہ اور کوٹ چودھریاں کا تاریخی سیاسی اتحاد اور 1970ء کا اختلاف

چکوال کی سیاسی تاریخ میں دلہہ کے سردار محمد اشرف خان اور کوٹ چودھریاں کے سردار خضر حیات خان کا سیاسی اتحاد ایک اہم باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں رہنما نہ صرف قریبی سسرالی رشتہ دار تھے بلکہ کئی برس تک ایک دوسرے کے سیاسی ساتھی اور اتحادی بھی رہے۔
1950ء اور 1960ء کی دہائیوں میں اس وقت کے ضلع جہلم (جس میں موجودہ ضلع چکوال شامل تھا) اور اٹک کی سیاست میں ان دونوں خاندانوں کا غیر معمولی اثر و رسوخ تھا۔ ان کے باہمی اتحاد نے پورے خطے میں ایک مضبوط سیاسی دھڑے کو جنم دیا، جسے اس دور کی سیاست میں نہایت بااثر سمجھا جاتا تھا۔
سردار خضر حیات خان چکوال کے اولین نمایاں پارلیمانی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے جبکہ سردار محمد اشرف خان مغربی پاکستان کی صوبائی سیاست میں ایک ابھرتے ہوئے اور مؤثر رہنما تھے۔ دونوں خاندان اکثر ایک دوسرے کی سیاسی حمایت کرتے رہے اور کئی انتخابات میں ان کے مشترکہ سیاسی اتحاد نے کامیابیاں حاصل کیں۔
لیکن 1970ء کے پہلے براہِ راست عام انتخابات میں حالات بدل گئے اور کئی برس تک ایک دوسرے کے سیاسی ساتھی رہنے والے یہ دونوں رہنما پہلی مرتبہ ایک ہی قومی اسمبلی کی نشست پر آمنے سامنے آ گئے۔

سردار محمد اشرف خان نے مسلم لیگ (کونسل) کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا۔

سردار خضر حیات خان نے مسلم لیگ (کنونشن) کے ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لیا۔

یہ صرف دو امیدواروں کا مقابلہ نہیں تھا بلکہ چکوال کی سیاست کا ایک تاریخی موڑ تھا۔ اس مقابلے نے کئی دہائیوں سے قائم سیاسی اتحاد کو ختم کر دیا اور علاقے میں نئی سیاسی صف بندیاں پیدا ہوئیں۔ اس کے بعد دلہہ اور کوٹ چودھریاں کے سیاسی دھڑے الگ الگ راستوں پر چل پڑے، اگرچہ دونوں خاندان اپنے اپنے علاقوں میں سیاسی اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔

باب چہارم

دلہہ کا سیاسی عروج، سردار خاندان اور نمایاں شخصیات

دلہہ گاؤں کو ضلع چکوال کی سیاست میں نمایاں مقام دلانے کا سہرا مرحوم سردار محمد اشرف خان کے سر جاتا ہے۔
وہ 1962ء اور 1965ء میں مغربی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن (MPA) منتخب ہوئے اور مختلف ادوار میں پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت، اوقاف، صنعت، تجارت اور محنت جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے دلہہ گاؤں کو ضلعی اور صوبائی سیاست میں ایک مضبوط مقام دلایا اور اسے ایک سیاسی پاور ہاؤس کے طور پر متعارف کرایا۔

سردار نواب خان (مرحوم) اور سردار عارف خان

یہ خاندان کے اہم ستون تھے جنہوں نے دلہہ، بلکسر اور نیلہ کے علاقوں میں خاندانی سیاسی اثر و رسوخ کو برقرار رکھا۔

سردار ذوالفقار علی خان دلہہ (سابق MNA)

سردار احمد علی خان کے صاحبزادے اور سردار محمد اشرف خان کے پوتے ہیں۔ وہ 2013ء میں رکنِ صوبائی اسمبلی (MPA) اور 2018ء میں حلقہ این اے-64 چکوال سے رکنِ قومی اسمبلی (MNA) منتخب ہوئے۔ دلہہ گاؤں، نیلہ-دلہہ انٹرچینج اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں ان کا اہم کردار تسلیم کیا جاتا ہے۔

چوہدری طاہر اعوان دلہہ ایڈووکیٹ

معروف قانون دان، سماجی رہنما اور پاکستان عوامی تحریک ضلع چکوال کے سابق صدر، جنہوں نے عوامی اور قانونی مسائل کے حل میں نمایاں کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر غلام اکبر (مرحوم): گاؤں کی علمی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ گاؤں کے پہلے پی ایچ ڈی ڈاکٹر تھے اور انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں گاؤں کا نام روشن کیا۔ ان کی کامیابی نے نئی نسل کو تعلیم کے حصول کی جانب راغب کیا۔
سردار خرم نواب (مرحوم): ضلع چکوال کی سیاست میں ایک اہم نام تھے۔ وہ رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) رہے اور اپنے علاقے کی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔
بریگیڈیئر ظفر اقبال چوہدری: پاک فوج میں خدمات انجام دینے کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کی عسکری خدمات گاؤں کے لیے باعثِ فخر ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) مظفر کہوٹ: پاک فوج کے سینئر افسران میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ عسکری ذمہ داریاں نبھائیں اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث گاؤں کا نام قومی سطح پر روشن کیا۔
افضل کہوٹ: پاکستان کی اعلیٰ سول سروس کے ممتاز افسر ہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری، حکومتِ پاکستان اور کمشنر کے عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ سرکاری انتظامیہ اور پبلک سروس میں ان کی خدمات نہایت قابلِ قدر ہیں۔
پروفیسر حافظ قاضی اختر صاحب
 چکوال ڈگری کالج میں پروفیسر لگے ہوئے ہیں
دلہہ گاؤں کو فوجی خدمات کے حوالے سے بھی ممتاز مقام حاصل ہے۔ نمایاں فوجی شخصیات میں:

فلیٹ چیف پیٹی آفیسر محمد ممتاز؛

صوبیدار میجر (ر) محمد خان؛

کپتان (ر) غلام جعفر؛

شامل ہیں۔
1947ء سے لے کر آج تک دلہہ کے بے شمار سپوت پاک فوج، پاک بحریہ اور دیگر عسکری اداروں میں خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ متعدد غازیوں اور شہداء نے وطنِ عزیز کے دفاع میں قربانیاں پیش کی ہیں۔

دینی و سماجی شخصیات

مولانا قاری غلام مرتضیٰ؛

صوفی محمد اصغر؛

جنہوں نے دینی، روحانی اور سماجی میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

اختتامیہ

دلہہ، خطۂ دھن کی ایک قدیم، باوقار اور تاریخی بستی ہے جس نے اپنی دہنی ثقافت، سیاسی روایات، عسکری خدمات اور سماجی ہم آہنگی کے ذریعے ضلع چکوال میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ سردار محمد اشرف خان سے شروع ہونے والی سیاسی روایت آج بھی اس گاؤں کی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے، جبکہ اس کے عوام اپنی ثقافت، روایات اور حب الوطنی کے لیے پورے خطے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔


No comments: